Go to Home Page
Home Profile Disclaimer Societies Partners Picture Gallery Contact us

 

ٹنل فارمنگ ( سبزیات کی بے موسمی کاشت )

تعارف :

کوئی بھی فصل اپنے مقررہ وقت سے پہلے یا بعد میں کاشت کرنے اور کامیابی سے پیداوار کے حصول کی ٹیکنالوجی کو بے موسمی کاشت کا نام دیا جاتا ہے۔ اِس ضمن میں گرمیوں کی سبزیات کو موسم سرما میں سورج کی روشنی سے پلاسٹک پولیتھین کے ذریعے حرارت حاصل کر کے اُگایا جاتا ہے اور مصنوعی طور پر حرارت پیدا کر کے اگیتی فصل حاصل کی جاتی ہے۔ اس کام کو ٹنل فارمنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔


بے موسمی کیا ہے؟

کسی بھی ایک مروجہ موسم کی فصل یا سبزی کو دوسرے موسم میں کاشت کرنے اور کامیابی سے پیداوار حاصل کرنے کو بے موسمی فصل کا نام دیا جاتا ہے۔


بے موسمی فصل کیوں؟

انسانی نفسیات ہمیشہ سے اس چیز کو حاصل کرنے کی خواہش مند رہی ہے جو کمیاب ہو یا مشکل سے دستیاب ہو۔ اگیتی (شروع موسم کے ) سبزیات یا پھل ہمیشہ سے مہنگے داموں فروخت ہوتی رہی ہیں۔ صوبہ سندھ کا موسم بقیہ ملک سے قدرے پہلے شروع ہوتا ہے اور اسی خصوصیت کی بناء پر فصلوں کی جلد کاشت اور پیداوار حاصل ہوتی ہے جو ملک کے شمالی حصوں (پنجاب) کے نارمل فصلوں سے پہلے مارکیٹ میں دستیاب ہو کر اچھے دام حاصل کرتی ہیں جس کی مثال فروری اور مارچ کے مہینے میں 60 سے 80 روپے فی کلو بکنے والے کریلے 50 روپے کلو بھنڈی ، ٹماٹر اور 40 روپے کلو تک کھیرے شامل ہیں۔ اب اِن فصلوں کو ٹنل فارمنگ کے ذریعے پنجاب کے تمام اِضلاع میں کامیابی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔


بے موسمی کیسے؟

کرہ ارض پر توانائی اور حرارت کا مآخذ سورج ہے جو کہ روشنی کی لہروں کی صورت میں زمین تک پہنچتی ہے یاد رہے کہ روشنی کی لہریں بہت چھوٹے فوٹان کی صورت میں ہوتی ہیں جو کہ پانی ، ہوا اور پلاسٹک وغیرہ میں آسانی سے گزر سکتی ہیں۔ زمین اس جذب شدہ توانائی کو واپس ہوا میں خارج کرتی ہے اس وقت یہ توانائی حرارت کے فوٹان کی صورت میں ہوتی ہے جو کہ سائز میں کافی بڑے ہوتے ہیں۔ ان فوٹانز کو زمین سے چند فٹ کی بلندی پر پلاسٹک کی شیٹ بچھا کر روکا جا سکتا ہے اور یوں گرمیوں کی فصلات سردیوں میں کامیابی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔


زمین کا انتخاب :

ریتلی میرا زمین جس میں پانی کا نکاس نہایت عمدہ ہو سبزیوں کی کاشت کیلئے نہایت موزوں ہے۔ زمین کا کیمیائی تعامل 6 (pH) سے 7 کے درمیان ہونا چاہئے۔ نامیاتی مادہ 5 سے 10 فیصد ہونا چاہئے۔


جگہ کا انتخاب :

موزوں ترین جگہ وہ ہے جہاں سے پختہ سڑک نزدیک تر ہو ، درخت کم سے کم ہوں ، میٹھے پانی کی فراہمی تسلسل سے ہو سکے۔ جانوروں سے محفوظ ہو ، عام گزرگاہ سے فاصلے پر ہو ، مستقل نگرانی کی جا سکے اور ٹنلز کو شمالاً جنوباً لگایا جا سکے۔


ٹنل کی ساخت :

ٹنل کی ساخت کا انحصار زیادہ تر کسان کے مالی بجٹ پر ہوتا ہے۔ تاہم مروجہ اقسام میں "U" اور "V" الٹی شکل کی ٹنلز زیادہ مروج ہیں جو کہ تیز ہوا اور بارش کی صرت میں کم نقصان کا موجب ہوتی ہیں۔


ٹنل کی اقسام :

زیادہ تر تین اقسام کی ٹنل عام استعمال میں ہیں۔ یعنی ہائی ٹنل (High Tunnel) میڈیم ٹنل یا واکنگ ٹنل (Walking Tunnel) اور لَو ٹنل (Low Tunnel) ان کی تعمیر میں لوہا ، ٹی۔آئرن ، اینگل آئرن ، جستی پائپ ، سفید اور پاپولر وغیرہ کی لکڑی، بانس اور شہتوت کی چھڑیاں وغیرہ کامیابی سے استعمال میں لائی جا سکتی ہیں۔


کھاد اور زرعی ادویات :

کھاد اور زرعی ادویات کی مقدار کا تعین مٹی کے تجزیہ اور فصل کی قسم کے لحاظ سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رہے کہ ادویات کا قبل از وقت (Preventive) استعمال ہی اچھی فصل کی ضمانت ہو سکتا ہے۔


اقسام کی انتخاب :

سبزیوں میں کھیرا ، ٹماٹر شملہ مرچ ، کریلا اور کدو اور پھلوں میں خربوزہ ، تربوز اور سٹرابری کامیابی سے اُگائے جا سکتے ہیں۔ تجربات جاری ہیں۔ سبزیات کے ہائبرڈ (F1) بیج میں مختلف کمپنیوں اور اِداروں سے دستیاب ہیں جو کہ ماہرین کے مشورے کے مطابق اور زمین کی صورتحال اور علاقے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی استعمال کرنے چاہئیں۔


اخراجات اور متوقع آمدنی :

اخراجات کو کسان کی مالی حالت اوراشیاء کی دستیابی کی مناسبت سے کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ شروع کے مستقل سٹرکچر کی تعمیر پر لاگت پہلے سال میں نسبتاً زیادہ آتی ہے جبکہ آنے والے سالوں میں صرف غیر مستقل اشیاء پر کافی کم خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے پانچ سال کے اعدادوشمار کے مطابق اس جدید طریقہ کاشت کو اپنا کر فی ایکڑ 2 لاکھ سے 4 لاکھ روپے سالانہ تک آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

     

Home | Profile | Disclaimer | Partners | Career | Contact us

© All Rights Reserved 2011. Green Circle, Pakistan.

Newsletters
Name
E-Mail